حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے اپنے فرزندامام حسن عسکری علیہ السلام کی شادی جناب نرجس خاتون سے کردی جوقیصرروم کی پوتی اورشمعون وصی عیسی کی نسل سے تھیں (جلاء العیون ص ۲۹۸) ۔ اس کے بعدآپ ۳/ رجب ۲۵۴ ہجری کودرجہ شہادت پرفائزہوئے۔ آپ کی شہادت کے بعدحضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کاآغازہوا آپ کے تمام معتقدین نے آپ کومبارک باددی اورآپ سے ہرقسم کااستفادہ شروع کردیا آپ کی خدمت میں آمدورفت اورسوالات وجوابات کاسلسلہ جاری ہوگیا آپ نے جوابات میں ایسے حیرت انگیزمعلومات کاانکشاف فرمایاکہ لوگ دنگ رہ گئے آپ نے علم غیب اورعلم بالموت تک کاثبوت پیش فرمایا اوراس کی بھی وضاحت کی کہ فلاں شخص کواتنے دنوں میں موت آجائے گی۔ علامہ ملاجامی لکھتے ہیں کہ ایک شخص نے اپنے والدسمیت حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی راہ میں بیٹھ کریہ سوال کرناچاہاکہ باپ کوپانچ سو درہم اوربیٹے کو تین سوردرہم اگرامام دیدیں توتوسارے کام ہوجائیں، یہاں تک امام علیہ السلام اس راستے پرآپہنچے ،اتفاقا یہ دونوں امام کوپہچانتے نہ تھے امام خودان کے قریب گئے اوران سے کہاکہ تمہیں آٹھ سودرہم کی ضرورت ہے آؤتمہیں دیدوں دونوں ہمراہ ہولیے اوررقم معہودحاصل کرلی اسی طرح ایک اورشخص قیدخانہ میں تھا اس نے قیدکی پریشانی کی شکایت امام علیہ السلام کولکھ کربھیجی اورتنگ دستی کا ذکرشرم کی وجہ سے نہ کیا آپ نے تحریرفرمایاکہ تم آج ہی قید سے رہاہوجاؤگے اورتم نے جوشرم سے تنگدستی کاتذکرہ نہیں کیا اس کے متعلق معلوم کروکہ میں اپنے مقام پرپہنچتے ہی سودیناربھیج دوں گا۔ چنانچہ ایساہی ہوا اسی طرح ایک شخص نے آپ سے اپنی تندستی کاکی شکایت کی آپ نے زمین کریدکرایک اشرفی کی تھیلی نکالی اوراس کے حوالہ کردی اس میں سودینارتھے۔ اسی طرح ایک شخص نے آپ کوتحریرکیاکہ مشکوة کے معنی کیاہیں؟ نیزیہ کہ میری بیوی حاملہ ہے اس سے جوفرزندپیداہوگا اس کانام رکھ دیجیے آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ مشکوة سے مراد قلب محمدمصطفی صلعم ہے اورآخرمیں لکھ دیا ”اعظم اللہ اجرک واخلف علیک“ خداتمہیں جزائے خیردے اورنعم البدل عطاکرے چنانچہ ایساہی ہوا کہ اس کے یہاں مردہ بیٹاپیداہوا۔ اس کے بعداس کی بیوی حاملہ ہوئی ، فرزندنرینہ متولدہوا، ملاحظہ ہو(شواہدالنبوت ص ۲۱۱) ۔ علامہ ارلی لکھتے ہیں کہ حسن ابن ظریف نامی ایک شخص نے حضرت سے لکھ کردریافت کیاکہ قائم آل محمدپوشیدہ ہونے کے بعدکب ظہورکریں گے آپ نے تحریرفرمایا جب خداکی مصلحت ہوگی اس کے بعدلکھا کہ تم تپ ربع کاسوال کرنابھول گئے جسے تم مجھ سے پوچھناچاہتے تھے ، تودیکھوایساکروکہ جواس میں مبتلاہواس کے گلے میں ایة ”یانارکونی برداولاما علی ابراہیم“ لکھ کرلٹکادوشفایاب ہوجائے گاعلی بن زیدابن حسین کاکہناہے کہ میں ایک گھوڑاپرسوارہوکرحضرت کی خدمت میں حاضرہواتوآپ نے فرمایاکہ اس گھوڑے کی عمرصرف ایک رات باقی رہ گئی ہے چنانچہ وہ صبح ہونے سے پہلے مرگیا اسماعیل بن محمدکاکہناہے کہ میں حضرت کی خدمت میں حاضرہوا، اورمیں نے ان سے قسم کھاکرکہاکہ میرے پاس ایک درہم بھی نہیں ہے آپ نے مسکراکر فرمایا کہ قسم مت کھاؤ تمہارے گھردوسودینار مدفون ہیں یہ سن کروہ حیران رہ گیا پھرحضرت نے غلام کوحکم دیاکہ انہیں سواشرفیاں دیدو عبدی روایت کرتاہے کہ میں اپنے فرزندکو بصرہ میں بیمار چھوڑکرسامرہ گیااوروہاں حضرت کوتحریرکیاکہ میرے فرزندکے لیے دعائے شفاء فرمائیں آپ نے جواب میں تحریرفرمایاکہ ”خدااس پررحمت نازل فرمائے“ جس دن یہ خط اسے ملااسی دن اس کافرزندانتقال کرچکاتھا محمدبن افرغ کہتاہے کہ میں نے حضرت کی خدمت میں ایک عریضہ کے ذریعہ سے سوال کیاکہ ”آئمہ کوبھی احتلام ہوتاہے“ جب خط روانہ کرچکاتو خیال ہواکہ احتلام تووسوسہ شیطانی سے ہواکرتاہے اورامام تک شیطان پہنچ نہیں سکتا بہرحال جواب آیاکہ امام نوم اوربیداری دونوں حالتوں میں وسوسہ شیطانی سے دورہوتے ہیں جیساکہ تمہارے دل میں بھی خیال پیداہواہے پھراحتلام کیونکرہوسکتاہے جعفربن محمدکاکہناہے کہ میں ایک دن حضرت کی خدمت میں حاضرتھا، دل میں خیال آیا کہ میری عورت جوحاملہ ہے اگراس سے فرزندنرینہ پیداہوتوبہت اچھاہوآپ نے فرمایاکہ اے جعفرلڑکانہیں لڑکی ہوگی چنانچہ ایساہی ہوا(کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے عقیدت مندوں میں حضرت کادورہ جعفربن شریف جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں حج سے فراغت کے بعدحضرت امام حسن عسکری کی خدمت میں حاضرہوا ،اوران سے عرض کی کہ مولا! اہل جرجان آپ کی تشریف آوری کے خواستگارہیں آپ نے فرمایاکہ تم آج سے ایک سونوے دن کے بعدواپس جرجان پہنچوگے اورجس دن تم پہچوگے اسی دن شام کو میں بھی پہنچ جاؤں گا تم انہیں باخبرکردینا، چنانچہ ایساہی ہوا میں وطن پہنچ کرلوگوں کوآگاہ کرچکاتھا کہ امام علیہ السلام کی تشریف آوری ہوئی آپ نے سب سے ملاقات کی اورسب نے شرف زیارت حاصل کیا، پھرلوگوں نے اپنی مشکلات پیش کیں امام علیہ السلام نے سب کومطمئن کردیا اسی سلسلہ میں نصربن جابرنے اپنے فرزندکوپیش کیا، جونابیناتھا حضرت نے اس کے چہرہ پردست مبارک پھیرکراسے بینائی عطاکی پھرآپ اسی روزواپس تشریف لے گئے (کشف الغمہ ص ۱۲۸) ۔ ایک شخص نے آپ کوایک خط بلاروشنائی کے قلم سے لکھا آپ نے اس کاجواب مرحمت فرمایااورساتھ ہی لکھنے والے کا اوراس کے باپ کانام بھی تحریرفرمادیا یہ کرامت دیکھ کروہ شخص حیران ہوگیااوراسلام لایا اورآپ کی امامت کامعتقدبن گیا(دمعہ ساکبہ ص ۱۷۲) ۔ امام حسن عسکری علیہ السلام کاپتھرپر مہر لگانا ثقة الاسلام علامہ کلینی اورامام اہلسنت علامہ جامی رقمطرازہیں کہ ایک دن حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں ایک خوبصورت سایمنی آیا اوراس نے ایک سنگ پارہ یعنی پتھرکاٹکڑا پیش کرکے خواہش کی کہ آپ اس پراپنی امامت کی تصدیق میں مہرکردیں حضرت نے مہرنکالی اوراس پرلگادی آپ کااسم گرامی اس طرح کندہ ہوگیاجس طرح موم پرلگانے سے کندہ ہوتاہے ایک سوال کے جواب میں کہاگیاکہ آنے والامجمع ابن صلت بن عقبہ بن سمعان ابن غانم ابن ام غانم تھا یہ وہی سنگ پارہ لایاتھا جس پراس کے خاندان کی ایک عورت ام غانم نے تمام آئمہ طاہرین سے مہرلگوارکھی تھی اس کاطریقہ یہ تھا کہ جب کوئی امامت کادعوی کرتاتھا تووہ اس کولے کراس کے پاس چلی جاتی تھی اگراس مدعی نے پتھرپرمہرلگادی تواس نے سمجھ لیاکہ یہ امام زمانہ ہیں اوراگروہ اس عمل سے عاجزرہاتووہ اسے نظراندازکردیتی تھی چونکہ اس نے اسی سنگ پارہ پرکئی اماموں کی مہرلگوائی تھی ، اس لیے اس کالقب (صاحبةالحصاة) ہوگیاتھا ۔ علامہ جامی لکھتے ہیں کہ جب مجمع بن صلت نے مہرلگوائی تواس سے پوچھاگیاکہ تم حضرت امام حسن عسکری کوپہلے سے پہچانتے تھے اس نے کہانہیں، واقعہ یہ ہواکہ میں ان کاانتظارکرہی رہاتھا کہ کہ آپ تشریف لائے میں لیکن پہچانتانہ تھا اس لیے خاموش ہوگیا اتنے میں ایک ناشناس نوجوان نے میری نظروں کے سامنے آکرکہاکہ یہی حسن بن علی ہیں ۔ راوی ابوہاشم کہتاہے کہ جب وہ جوان آپ کے دربارمیں آیاتومیرے دل میں یہ آیاکہ کاش مجھے معلوم ہوتاکہ یہ کون ہے، دل میں اس کاخیال آناتھا کہ امام علیہ السلام نے فرمایاکہ مہرلگوانے کے لیے وہ سنگ پارہ لایاہے ، جس پرمیرے باپ داداکی مہریں لگی ہوئی ہیں چنانچہ اس نے پیش کیا اورآپ نے مہرلگادی وہ شخص آیة ”ذریة بعضہامن بعض“ پڑھتاہواچلاگیا (اصول کافی ،دمعہ ساکبہ ص ۱۶۴ ،شواہدالنبوت ص ۲۱۱ ،طبع لکھنو ۱۹۰۵ ء اعلام الوری ۲۱۴) ۔ حضرت امام حسن عسکری کاعراق کے ایک عظیم فلسفی کوشکست دینا مورخین کابیان ہے کہ عراق کے ایک عظیم فلسفی اسحاق کندی کویہ خبط سوارہواکہ قرآن مجیدمیں تناقض ثابت کرے اوریہ بتادے کہ قرآن مجیدکی ایک آیت دوسری آیت سے، اورایک مضمون دوسرے مضمون سے ٹکراتاہے اس نے اس مقصدکی تکمیل کے لیے ”تناقض القرآن“ لکھناشروع کی اوراس درجہ منہمک ہوگیا کہ لوگوں سے ملناجلنا اورکہیں آناجانا سب ترک کردیا حضرت امام حسن عسکر ی علیہ السلام کوجب اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اس کے خبط کو دور کرنے کاارادہ فرمایا، آپ کاخیال تھا کہ اس پرکوئی ایسااعتراض کردیاجائے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سے اورمجبورااپنے ارادہ سے بازآئے ۔ اتفاقا ایک دن آپ کی خدمت میں اس کاایک شاگرد حاضرہوا، حضرت نے اس سے فرمایا کہ تم میں سے کوئی ایسانہیں ہے جواسحاق کندی کو ”تناقض القرآن“ سے لکھنے سے بازرکھے اس نے عرض کی مولا! میں اس کاشاگردہوں، بھلااس کے سامنے لب کشائی کرسکتاہوں، آپ نے فرمایاکہ اچھایہ توکرسکتے ہو کہ جومیں کہوں وہ اس تک پہنچادو، اس نے کہاکرسکتاہوں، حضرت نے فرمایاکہ پہلے توتم اس سے موانست پیداکرو، اوراس پراعتبارجماؤ جب وہ تم سے مانوس ہوجائے اورتمہاری بات توجہ سے سننے لگے تواس سے کہناکہ مجھے ایک شبہ پیداہوگیاہے آپ اس کودورفرمادیں، جب وہ کہے کہ بیان کروتوکہناکہ ”ان اتاک ہذالمتکلم بہذاالقرآن ہل یجوزمرادہ بماتکلم منہ عن المعانی التی قدظننتہا انک ذہبتھا الیہا“ اگراس کتاب یعنی قرآن کامالک تمہارے پاس اسے لائے توکیاہوسکتاہے کہ اس کلام سے جومطلب اس کاہو، وہ تمہارے سمجھے ہوئے معانی ومطالب کے خلاف ہو، جب وہ تمہارا یہ اعتراض سنے گا توچونکہ ذہین آدمی ہے فوراکہے گا کہ بے شک ایساہوسکتاہے جب وہ یہ کہے توتم اس سے کہناکہ پھرکتاب ”تناقض القرآن“ لکھنے سے کیافائدہ؟ کیونکہ تم اس کے جومعنی سمجھ کراس پراعتراض کررہے ہو ،ہوسکتاہے کہ وہ خدائی مقصودکے خلاف ہو، ایسی صورت میں تمہاری محنت ضائع اوربرباد ہوجائے گی کیونکہ تناقض توجب ہوسکتاہے کہ تمہارا سمجھاہوا مطلب صحیح اورمقصود خداوندی کے مطابق ہو اورایسا یقینی طورپرنہیں توتناقض کہاں رہا؟ ۔ لغرض وہ شاگرد ،اسحاق کندی کے پاس گیا اوراس نے امام کے بتائے ہوئے اصول پر اس سے مذکورہ سوال کیا اسحاق کندی یہ اعتراض سن کر حیران رہ گیا اورکہنے لگا کہ پھرسوال کودہراؤ اس نے پھراعادہ کیا اسحاق تھوڑی دیرکے لیے محو تفکرہوگیا اورکہنے لگا کہ بے شک اس قسم کااحتمال باعتبار لغت اوربلحاظ فکروتدبرممکن ہے پھراپنے شاگرد کی طرف متوجہ ہواکربولا! میں تمہیں قسم دیتاہوں تم مجھے صحیح صحیح بتاؤ کہ تمہیں یہ اعتراض کس نے بتایاہے اس نے جواب دیا کہ میرے شفیق استاد یہ میرے ہی ذہن کی پیداوارہے اسحاق نے کہاہرگزنہیں ، یہ تمہارے جیسے علم والے کے بس کی چیزنہیں ہے، تم سچ بتاؤ کہ تمہیں کس نے بتایا اوراس اعتراض کی طرف کس نے رہبری کی ہے شاگرد نے کہا کہ سچ تویہ ہے کہ مجھے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے فرمایاتھا اورمیں نے انھیں کے بتائے ہوئے اصول پرآپ سے سوال کیاہے اسحاق کندی بولا ”ان جئت بہ “ اب تم نے سچ کہاہے ایسے اعتراضات اورایسی اہم باتیں خاندان رسالت ہی سے برآمدہوسکتی ہیں ”ثم انہ دعا بالنا رواحرق جمیع ماکان الفہ“ پھراس نے آگ منگائی اورکتاب تناقض القرآن کاسارامسودہ نذرآتش کردیا (مناقب ابن شہرآشوب مازندرانی جلد ۵ ص ۱۲۷ ،بحارالا
6 فروری 2014 - 20:30
News ID: 503739